بھٹکل:6/اپریل(ایس اؤنیوز)بلدیہ حدود کے یومیہ زمینی ٹیکس وصولی کام کے متعلق بلایا گیا ٹینڈر معاملہ کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہاہے، اس سلسلے میں ضروری جانچ کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی مانگ کرتے ہوئے عوام کے ایک گروپ نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم سونپا ہے۔
میمورنڈم کے مطابق متعلقہ یومیہ زمینی ٹیکس کا ٹینڈر پہلے یعنی 4 مارچ کو ایک شخص کو دیاگیاتھا، لیکن نیلامی کی ضمانت والی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے ٹینڈر منسوخ کردیا گیا۔ 14مارچ کو ایک اور شخص کو ٹینڈر دیا گیا دوسرا ٹینڈر بھی ضمانت نہ بھرنے کے سبب ردکیا گیا ۔ تیسری مرتبہ جن کو ٹینڈر دیاگیا ہے ان سے 3لاکھ روپیوں کا چک لیا گیا ہے، جب کہ اصول یہ ہے کہ نیلامی کی رقم 24گھنٹوں کے اندر جمع کرنی ہوتی ہے، تعجب کی بات یہ ہے کہ بعد میں پتہ چلا ہے کہ چک میں درج کردہ رقم بینک اکاؤنٹ میں نہیں ہے۔ جب ہم نے متعلقہ افسر کو اس کی جانکاری دی تو تیسرے ٹینڈر کو بھی رد کیا گیا ۔
میمورنڈم میں مزید بتایا گیا ہے کہ 5اپریل کو پھر ایک بار 2لاکھ 73ہزار کی ضمانت پر عبدالبشیر نامی شخص کو ٹینڈر دیا گیا ۔ لیکن جب 6اپریل کی دوپہر 30-02بجے تک رقم جمع نہ ہونے کی وجہ سےہم نے مطالبہ کیا کہ اس ٹینڈر کو بھی نکال باہر کردیں تو آفیسر نے اصول وضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ڈھائی بجے کے بعد رقم جمع کرواکر ٹینڈر کی تصدیق کی ہے۔ عوام نے میمورنڈم میں الزام لگایا ہے کہ اس ٹینڈر کے پیچھے ایک ڈفالٹر کا ہاتھ ہے، جس کی وجہ سےکئی شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں، میمورنڈم میں اس معاملے کی باریکی سے جانچ کرکے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اورکاروائی نہ کرنے کی صورت میں سخت احتجاج کاانتباہ دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر منجوناتھ نے میمورنڈم وصول کیا۔ اس موقع پر خواجہ حسین کلئی والے ، ڈاکٹر فاروقی ، سدھاکر واسو نائک، ماروتی پاؤسکر، نذیر احمد سوکیری ، آصف اقبال وغیرہ موجود تھے۔